کراچی کنگز وہ واحد ٹیم ہے جس نے ابھی تک پی ایس ایل میں ایک بھی میچ نہیں جیتا ہے۔

اسی پر سابق کپتان راشد لطیف نے بتایا ہے کہ کراچی کی ٹیم میں کیا مسائل پیش آرہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پچھلے دو سال پہلے جیت رہا تھا کیونکہ عامر بلکل فٹ تھے اورتیز بولنگ کر رہے تھے،

عماد وسیم کپتان تھے، بابر اور شرجیل بھی پرفارم کر رہے تھے جس کا مطلب یہ تھا کہ چار کھلاڑی اپنے عروج پر تھے۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر کھلاڑی کو زوال کا سامنا ہے اورکراچی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے مقامی کھلاڑیوں پر خاص توجہ نہیں دی۔ “ان کے پاس ڈوگی براؤن پہلے سے ہی کوچنگ اسٹاف میں تھا اور وہ پیٹر مورس کوبھی لے کر آیا۔

مجھے یقین ہےکہ مورز اچھے کوچ ہیں لیکن انہوں نے انگلش کھلاڑیوں کو زیادہ ترجیح دی۔ انہوں نے جو کلارک، کرس جورڈن، ایان کاکبین، ٹام لیمونبی اورلیوس گریگوری کو پک کیا۔

ان میں سے چار کھلاڑی پاکستان سیٹ اپ کےلیے موزوں نہیں، وہ انگلش اور آسٹریلوی کنڈیشنزمیں اچھے کھلاڑی ثابت ہوں گے۔ سچ پوچھیں تو میرے خیال میں کراچی کنگز کو بے وقوف بنادیا گیا۔

صرف کرس جارڈن ایک اچھا کھلاڑی ہے اور شاید جو کلارک بھی لیکن وہ فٹ نہیں ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے ایک بڑی غلطی کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں