ٹم ڈیوڈ سنگاپور کی جانب سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہیں اوردنیا بھر کی لیگزمیں نظر آنے والے ایسوسی ایٹ ملکوں کے چند ایک کھلاڑیوں میں ان کا شمارہوتا ہے۔ گو کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ اپنے پیدائش کے ملک کی جانب سےکھیلتے ہیں مگررہائش آسٹریلیا میں اختیار کی ہوئی ہےجہاں وہ بگ بیش لیگ میں باقاعدگی سے نظر آتے ہیں۔

انہیں پہلی بارآسٹریلیا سے باہر فرنچائز کرکٹ کھیلنے کا موقع 2021 میں اس وقت ملا جب پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کے بقیہ میچز ابوظبی شفٹ ہوئے اورٹم ڈیوڈ کو لاہور قلندرز نے پک کرلیا۔

تاہم وہ اس سال جارح مزاج بیٹر کو برقرار نہ رکھ سکے اور ملتان سلطانز نے موقعے کا فائدہ اٹھاکر پلاٹینم میں وائلڈ کارڈ کے طور پر ان کا انتخاب کرلیا۔ ٹم دیوڈ نے اسلام آباد کیخلاف میچ میں 71 رنز کی اننگز کھیل کراس فیصلے کو درست بھی ثابت کیا۔

جیو نیوز کو انٹرویو میں ان کا کہناتھا کہ پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنا ان کیلئے کافی بڑا موقع تھا جس کا ان کے کیریئر پر بھی گہرا اثر پڑا، پی ایس ایل کھیل کر ان کو مختلف اور سخت کنڈیشنز میں کھیلنے کا اعتماد ملا ہے۔

اس بارملتان سلطانز کے ساتھ شامل ہونا بھی اچھا موقع ہے جہاں ایک مضبوط بیٹنگ لائن کے ساتھ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے، یہ سیزن اب ک کافی شاندار جارہا ہے، ابتدائی میچز میں ہی اتنا کچھ سیکھ لیا ہے کہ

لگ رہا ہے کہ پہلے سے بہتر بیٹر بن چکا ہوں۔ پاکستان سپر لیگ میں بولنگ کا معیار کافی سخت ہے اور بطور غیرملکی بیٹر جو یہاں کی کنڈیشنز سے ہم آہنگ نہیں، یہاں کھیل کر خود کو سخت چیلنج کیلئے تیار کرنےکا موقع مل رہا ہے۔

بگ بیش میں ہوبارٹ ہریکینز کی نمائندگی کرنے والے ٹم ڈیوڈ نے گزشتہ سال پی ایس ایل میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کے بعد کیریبئن پریمیئ لیگ میں سینٹ لوشیا کنگز اورآئی پی ایل میں بنگلور کی فرنچائز کی نمائندگی کی تاہم وہ پاکستان سپر لیگ سے کافی متاثر ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل میں ہر دوسرا بولر 145 کی رفتار سے گیند کرا رہا ہوتا ہے جس کا سامنا کرنا ایک چیلنج ہے لیکن اس چیلنج کا سامنا کرکے انہیں سیکھنے کو بہت کچھ مل رہا ہے۔ ویسے تو یہ میرا دوسرا ہی سیزن ہے لیکن مجھے اس لیگ کے معیار کا کافی اندازہ ہوگیا ہے،

مجھ سے زیادہ میچز کھیلنے والے پلیئرز بھی یہی بتاتے ہیں کہ یہاں فاسٹ بولرز بہت زبردست ہیں۔‘ ایک سوال پر سنگاپو ر نیشنل ٹیم کے کھلاڑی نے کہا کہ اگر مختلف لیگزکھیلنے کا موقع ملا تو اس سے کرکٹ بہتر ہوگی لیکن

یہ موقع حاصل کرنے کیلئے ایسوسی ایٹ ملکوں سے تعلق رکھنے والے کرکٹرز کو بھی اپنا معیارثابت کرنا ہوگا، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں چند ایک سامنے آئے تھے، امید ہے دنیا بھر کی لیگز میں ایسے پلیئرز کو موقع ملے گا۔ سنگاپور کی ٹیم کو اس سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گلوبل کوالیفائرز میں شرکت کرنا ہے

مگرٹم ڈیوڈ سمجھتے ہیں کہ ٹیم کو اس طرح تیاری کا موقع نہیں مل سکا جوموقع ان کی مخالف ٹیموں کو میسر تھا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ کووڈ کی وجہ سےسنگاپور کی ٹیم زیادہ میچز نہیں کھیل پائی اور پلیئرز صرف ٹریننگ سیشنز تک محدود رہے۔

انہوں نے کہا کہ سنگاپور کو مزید کرکٹ ملنی چاہیے، بڑی ٹیموں کے ساتھ تو سیریز ممکن نہیں کیوں کہ ان کے کیلنڈر مصروف ہیں، لیکن خطے کی دیگر بہتر ایسوسی ایٹ ٹیموں کے ساتھ میچز ملنے چاہئیں۔

انہوں نے پی ایس ایل ٹیم ملتان سلطانز کےماحول کی تعریف کی اور کہا کہ محمد رضوان شاندار لیڈر ہیں جو ہر کسی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جبکہ عمران طاہر جیسا کھلاڑی بھی ٹیم میں موجود ہے جونہ صرف ایک اچھا کرکٹر بلکہ ایک اعلیٰ اینٹرٹینر بھی ہے۔

انہوں نےاپنے ساتھی شاہنواز داہانی کی بھی تعریف کی اور کہا کہ شاہنواز داہانی بہت زبردست کیریکٹر ہے، ٹیم کا سب سے پرجوش رکن ہے اور ہر وقت ہنستامسکراتا رہتا ہے۔ ٹم ڈیوڈ نے انکشاف کیا کہ داہانی ان کو اردو سکھانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

داہانی کے بارےمیں انہوں نے کہا کہ’ایسا کھلاڑی ٹیم میں ہو تو بہت اچھا لگتا ہے ، خاص طور پر جب آپ کا موڈ ڈاؤن ہو یا کارکردگی خراب ہو تو داہانی جیسا کردار آپ کا موڈ تبدیل کرنے اور آپ کومسکرانے پر مجبور کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ پی ایس ایل میں ان کےاہداف کیا ہیں تو انہوں نے کہا کہ ان کی بس یہ ہی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ سیکھیں، ٹی ٹوئنٹی میں آپ اعداد و شمار کی بنیاد پر اہداف نہیں بناسکتے اور آپ کو انتظار کرنا پڑتا ہےکہ

کب صورتحال ایسی ہوکہ آپ ٹیم کی جیت میں کردار ادا کرسکیں اوراگر میں نے ملتان کی جیت میں کردار ادا کرلیا تو اطمینان ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں